Classic Urdu Shayari: میر، غالب اور اقبال کی روایتی و کلاسیکی شاعری کے 20 شاہکار اشعار

Classic Urdu Shayari: میر، غالب اور اقبال کی روایتی و کلاسیکی شاعری کے 20 شاہکار اشعار
کلاسیکی اردو شاعری ہمارے ادبی ورثے کا سب سے چمکدار اور قیمتی ستارہ ہے۔ میر کی درد مندی، غالب کی فکری وسعت، اقبال کی خودی اور داغ کی شوخیِ بیاں نے اردو زبان کو دنیا کے عظیم ترین ادبی ذخیروں میں صفِ اول پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان اساتذہ کا کلام صدیوں بعد بھی اتنا ہی تر و تازہ، پرتاثیر اور بامعنی محسوس ہوتا ہے جتنا اپنے دور میں تھا۔ 'کلاسیکی اردو شاعری' کا یہ سنہری انتخاب آپ کو روایتی شاعری کی نزاکت، بندش کی چستی اور زبان کی فصاحت و بلاغت کا لطف عطا کرے گا۔ یہ اشعار ہر سچے شعر فہم کے دل کی دھڑکن ہیں۔ کلاسیکی اساتذہ کا کلام اردو زبان کا وہ مستقل اثاثہ ہے جو نسل در نسل دلوں کو گرماتا رہے گا۔ ان اشعار کو اپنے ادبی ذوق کی تسکین کا ذریعہ بنائیں۔
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر
عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری کا
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی میری وحشت تری شہرت ہی سہی
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی میری وحشت تری شہرت ہی سہی
تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
سرہانے میرؔ کے آہستہ بولو ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
سرہانے میرؔ کے آہستہ بولو ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندۂ صحرائی یا مردِ کہستانی
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندۂ صحرائی یا مردِ کہستانی
سدا رہے نام اس زبانِ اردو کا سلامت جس نے بخشا ہے ادب کو یہ لازوال وقار
سدا رہے نام اس زبانِ اردو کا سلامت جس نے بخشا ہے ادب کو یہ لازوال وقار
Text copied to clipboard!