Dard Urdu Shayari: دل کے زخموں، سسکتی آہوں اور دردِ دل پر 20 دل دوز اشعار
درد انسانی دل کی وہ پکار ہے جو کسی بڑی آزمائش، جدائی یا ناانصافی کے بعد سینے سے اٹھتی ہے۔ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو نظر آتے ہیں اور کچھ ایسے جو روح کے اندر خاموشی سے رستے رہتے ہیں۔ اردو شاعری نے انسانی دکھ درد کو جس احساس اور نفاست کے ساتھ بیاں کیا ہے، وہ قاری کی آنکھوں میں آنسو اور دل میں سکون پیدا کر دیتا ہے۔
'درد اردو شاعری' کا یہ انتخاب ان تمام گھائل دلوں کے لیے مرہم کا کام کرے گا جو خاموشی سے ستم سہتے رہے ہیں۔ ان اشعار میں درد کی حقیقت کو نہایت پروقار انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
درد اگرچہ تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن یہ انسان کے اندر ہمدردی اور حساسیت کو زندہ رکھتا ہے۔ امید ہے کہ یہ اشعار آپ کے دل کے دکھ کا مداوا ثابت ہوں گے۔
دل کے زخم اتنے گہرے ہیں کہ مرہم بھی جلتا ہے
اب تو ہر سانس کے ساتھ سینے میں درد اٹھتا ہے
دل کے زخم اتنے گہرے ہیں کہ مرہم بھی جلتا ہے
اب تو ہر سانس کے ساتھ سینے میں درد اٹھتا ہے
ہم نے ہنس کے سہے ہیں زمانے کے سارے ستم
مگر اس دل کی تڑپ کا کوئی علاج نہ ملا
ہم نے ہنس کے سہے ہیں زمانے کے سارے ستم
مگر اس دل کی تڑپ کا کوئی علاج نہ ملا
درد کی بھی اپنی اک الگ سلطنت ہوتی ہے صاحب
جہاں ہر اشک اپنی بے بسی کی گواہی دیتا ہے
درد کی بھی اپنی اک الگ سلطنت ہوتی ہے صاحب
جہاں ہر اشک اپنی بے بسی کی گواہی دیتا ہے
آنکھوں سے بہتے ہوئے پانی کو عام نہ سمجھو
یہ جلتی ہوئی روح کا پگھلا ہوا دھواں ہے
آنکھوں سے بہتے ہوئے پانی کو عام نہ سمجھو
یہ جلتی ہوئی روح کا پگھلا ہوا دھواں ہے
اتنا درد سہا ہے تیری بے رخی کی راہوں میں
کہ اب راحت کی تمنا کرنا بھی گناہ لگتا ہے
اتنا درد سہا ہے تیری بے رخی کی راہوں میں
کہ اب راحت کی تمنا کرنا بھی گناہ لگتا ہے
سینے میں جو چبھن ہے اس کا کوئی مداوا نہیں
ہم وہ مریض ہیں جن کی کوئی شفا نہیں
سینے میں جو چبھن ہے اس کا کوئی مداوا نہیں
ہم وہ مریض ہیں جن کی کوئی شفا نہیں
روز اک نیا زخم ملتا ہے اپنوں کے ہاتھوں سے
ہم نے تو اب درد کی گنتی کرنا بھی چھوڑ دی
روز اک نیا زخم ملتا ہے اپنوں کے ہاتھوں سے
ہم نے تو اب درد کی گنتی کرنا بھی چھوڑ دی
چیخنا چاہتے ہیں مگر گلے سے آواز نہیں نکلتی
اس بے بسی کے آگے تو موت بھی آسان لگتی ہے
چیخنا چاہتے ہیں مگر گلے سے آواز نہیں نکلتی
اس بے بسی کے آگے تو موت بھی آسان لگتی ہے
خاموش رہ کر ہم نے ہر اک وار سہا ہے
مگر زمانے نے سمجھا کہ ہمیں کوئی تکلیف نہیں
خاموش رہ کر ہم نے ہر اک وار سہا ہے
مگر زمانے نے سمجھا کہ ہمیں کوئی تکلیف نہیں
دل کے ناسور اب اس قدر پرانے ہو چکے ہیں
کہ ہوا کا اک جھونکا بھی انہیں تازہ کر جاتا ہے
دل کے ناسور اب اس قدر پرانے ہو چکے ہیں
کہ ہوا کا اک جھونکا بھی انہیں تازہ کر جاتا ہے
خدا نے بھی درد دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی
اور ہم بھی پتھر بن کے ہر عذاب سہتے چلے گئے
خدا نے بھی درد دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی
اور ہم بھی پتھر بن کے ہر عذاب سہتے چلے گئے
تیری یاد کا آنا بھی اب اک سزا بن چکا ہے
جو ہر روز پرانے زخموں کو پھر سے کرید جاتا ہے
تیری یاد کا آنا بھی اب اک سزا بن چکا ہے
جو ہر روز پرانے زخموں کو پھر سے کرید جاتا ہے
وہ درد ہی کیا جو لفظوں میں آسانی سے ڈھل جائے
سچا درد تو وہ ہے جو انسان کو اندر سے نگل جائے
وہ درد ہی کیا جو لفظوں میں آسانی سے ڈھل جائے
سچا درد تو وہ ہے جو انسان کو اندر سے نگل جائے
ہر روز اپنے ہی خوابوں کا گلا گھونٹتے ہیں ہم
ہم وہ زندہ لاشیں ہیں جو بس سانسوں پہ پلتی ہیں
ہر روز اپنے ہی خوابوں کا گلا گھونٹتے ہیں ہم
ہم وہ زندہ لاشیں ہیں جو بس سانسوں پہ پلتی ہیں
امتحان لیتے لیتے شاید یہ زندگی بھی تھک گئی ہوگی
مگر ہمارے حصے کا درد کبھی کم نہ ہوا
امتحان لیتے لیتے شاید یہ زندگی بھی تھک گئی ہوگی
مگر ہمارے حصے کا درد کبھی کم نہ ہوا
جب اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی خوشیوں کو جلانا پڑے
اس درد کی برابری دنیا کا کوئی زہر نہیں کر سکتا
جب اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی خوشیوں کو جلانا پڑے
اس درد کی برابری دنیا کا کوئی زہر نہیں کر سکتا
پلکوں کی دہلیز پہ جو آنسو اٹک جاتے ہیں
وہ دل کے سب سے گہرے طوفان کا پتہ دیتے ہیں
پلکوں کی دہلیز پہ جو آنسو اٹک جاتے ہیں
وہ دل کے سب سے گہرے طوفان کا پتہ دیتے ہیں
درد کو سمجھنے کے لیے دل کا ٹوٹنا ضروری ہے
ورنہ ظاہری آنکھیں تو صرف آنسوؤں کی گنتی کرتی ہیں
درد کو سمجھنے کے لیے دل کا ٹوٹنا ضروری ہے
ورنہ ظاہری آنکھیں تو صرف آنسوؤں کی گنتی کرتی ہیں
ہم تو اس مقام پہ آ پہنچے ہیں درد کے سفر میں
جہاں اب دعا مانگنے کے لیے بھی ہاتھ نہیں اٹھتے
ہم تو اس مقام پہ آ پہنچے ہیں درد کے سفر میں
جہاں اب دعا مانگنے کے لیے بھی ہاتھ نہیں اٹھتے
سدا سلامت رہے یہ ضبط کا دامن ہمارا
جو اتنے درد سہہ کر بھی کبھی شکوہ زبان پہ نہیں لاتا
سدا سلامت رہے یہ ضبط کا دامن ہمارا
جو اتنے درد سہہ کر بھی کبھی شکوہ زبان پہ نہیں لاتا