علامہ محمد اقبال کی 20 بہترین شاعری | مشہور اشعار اور اردو کلام

علامہ محمد اقبال کی 20 بہترین شاعری | مشہور اشعار اور اردو کلام
علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم ترین شعراء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری عشق، خودی، حریت، ایمان، علم اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کا پیغام دیتی ہے۔ اقبال کے اشعار آج بھی کروڑوں لوگوں کے لیے رہنمائی اور حوصلے کا ذریعہ ہیں۔ اس مضمون میں ہم علامہ محمد اقبال کی 20 بہترین اور مشہور شاعری پیش کر رہے ہیں جو اردو ادب کا قیمتی سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
تو رہ نوردِ شوق ہے منزل نہ کر قبول لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
تو رہ نوردِ شوق ہے منزل نہ کر قبول لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ
آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں جس علم کا حاصل ہو فقط عیشِ جہاں گیری
وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں جس علم کا حاصل ہو فقط عیشِ جہاں گیری
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر
جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی کھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی
جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی کھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں اقبالؔ اپنے آپ کو آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں
ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں اقبالؔ اپنے آپ کو آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں
سکھا دیئے ہیں اسماعیل کو آدابِ فرزندی خدا کے سامنے یوں ہاتھ پھیلانا نہیں آتا
سکھا دیئے ہیں اسماعیل کو آدابِ فرزندی خدا کے سامنے یوں ہاتھ پھیلانا نہیں آتا
نجات دیدۂ دل کی گھڑی نہیں آئی چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
نجات دیدۂ دل کی گھڑی نہیں آئی چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
Text copied to clipboard!