Dil Urdu Shayari: دل کے ارمان، تڑپ اور احساسات پر 20 خوبصورت اشعار

Dil Urdu Shayari: دل کے ارمان، تڑپ اور احساسات پر 20 خوبصورت اشعار
اردو شاعری کا سب سے بڑا اور مرکزی استعارہ 'دل' ہے۔ دل صرف خون پمپ کرنے والا عضو نہیں بلکہ تمام احساسات، محبتوں، دکھوں، آرزوؤں اور تڑپ کا اصل مرکز ہے۔ جب دل کی زمین زرخیز ہو تو شاعری کی کلیاں کھل اٹھتی ہیں اور جب دل ٹوٹ جائے تو الفاظ فریاد بن جاتے ہیں۔ 'دل اردو شاعری' کا یہ خوبصورت انتخاب دل کے مختلف احوال—اس کی خوشیوں، ارمانوں، نازک جذبوں اور اس کی گہری خاموشیوں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ اشعار پڑھ کر آپ کو محسوس ہوگا کہ شاعر نے آپ کے ہی دل کی کیفیات کو الفاظ کا حسین پیراہن عطا کر دیا ہے۔ دل کی زبان سب سے سچی اور اثر انگیز ہوتی ہے۔ جب دل سے بات نکلتی ہے تو سیدھی دوسرے دل میں اتر جاتی ہے۔ ان اشعار کے ذریعے اپنے دل کے ارمانوں کو اجاگر کریں۔
دل وہ بستی ہے جو اک بار اگر اجڑ جائے پھر کسی معمار سے یہ شہر بسایا نہ جائے
دل وہ بستی ہے جو اک بار اگر اجڑ جائے پھر کسی معمار سے یہ شہر بسایا نہ جائے
میرے اس دل میں بس اک تیری ہی حکومت ہے تیری یاد ہی تو میرے اس وجود کی دولت ہے
میرے اس دل میں بس اک تیری ہی حکومت ہے تیری یاد ہی تو میرے اس وجود کی دولت ہے
دل کی باتوں کو کبھی سرِ بازار نہ لانا یہاں لوگ تماشائی بن کے تالیاں بجاتے ہیں
دل کی باتوں کو کبھی سرِ بازار نہ لانا یہاں لوگ تماشائی بن کے تالیاں بجاتے ہیں
کبھی کبھی یہ دل اتنا اداس ہو جاتا ہے کہ اپنا ہی وجود اک بارِ گراں لگتا ہے
کبھی کبھی یہ دل اتنا اداس ہو جاتا ہے کہ اپنا ہی وجود اک بارِ گراں لگتا ہے
دل کے آئینے کو صاف رکھا ہے سدا ہم نے کسی کی نفرت کو اس میں بسنے نہیں دیا ہم نے
دل کے آئینے کو صاف رکھا ہے سدا ہم نے کسی کی نفرت کو اس میں بسنے نہیں دیا ہم نے
یہ دل بھی عجیب پاگل ہے تیرے پیچھے لاکھ سمجھاؤ مگر تیرا ہی نام لیتا ہے
یہ دل بھی عجیب پاگل ہے تیرے پیچھے لاکھ سمجھاؤ مگر تیرا ہی نام لیتا ہے
جس دل میں خدا اور محبت کا بسیرا ہو اس دل کے چراغ کو کوئی طوفان نہیں بجھا سکتا
جس دل میں خدا اور محبت کا بسیرا ہو اس دل کے چراغ کو کوئی طوفان نہیں بجھا سکتا
دل ٹوٹنے پہ کوئی شور نہیں ہوتا کبھی بس اندر ہی اندر اک کائنات بکھر جاتی ہے
دل ٹوٹنے پہ کوئی شور نہیں ہوتا کبھی بس اندر ہی اندر اک کائنات بکھر جاتی ہے
ہم نے اپنے اس دل کو بہت سنبھال کے رکھا تھا مگر تیری اک نظر نے اسے قیدی بنا لیا
ہم نے اپنے اس دل کو بہت سنبھال کے رکھا تھا مگر تیری اک نظر نے اسے قیدی بنا لیا
دل کی دھڑکن بھی اب تیری پابند ہو چکی ہے تو پاس ہو تو تیز اور دور ہو تو مدہم چلتی ہے
دل کی دھڑکن بھی اب تیری پابند ہو چکی ہے تو پاس ہو تو تیز اور دور ہو تو مدہم چلتی ہے
اس دل کو کسی کی تسلی کی ضرورت نہیں یہ خود اپنے زخموں کو سینا جانتا ہے
اس دل کو کسی کی تسلی کی ضرورت نہیں یہ خود اپنے زخموں کو سینا جانتا ہے
دل کے سمندر میں جو طوفان چھپے بیٹھے ہیں اگر ابھر آئیں تو ساحلوں کو بہا لے جائیں
دل کے سمندر میں جو طوفان چھپے بیٹھے ہیں اگر ابھر آئیں تو ساحلوں کو بہا لے جائیں
ہم نے دل کے ہر کونے کو تیری یاد سے سجایا ہے کوئی دوسرا مہمان اس محفل میں نہیں آ سکتا
ہم نے دل کے ہر کونے کو تیری یاد سے سجایا ہے کوئی دوسرا مہمان اس محفل میں نہیں آ سکتا
دل کی سادگی ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے ہم منافقت کے پردوں میں جینا نہیں جانتے
دل کی سادگی ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے ہم منافقت کے پردوں میں جینا نہیں جانتے
یہ دل ہے صاحب کوئی مٹی کا کھلونا نہیں جو جب جی چاہا توڑا اور پھینک دیا
یہ دل ہے صاحب کوئی مٹی کا کھلونا نہیں جو جب جی چاہا توڑا اور پھینک دیا
دل میں جو امید کا ننھا سا پودا لگایا تھا تیری بے رخی کی سرد ہوا نے اسے جلا ڈالا
دل میں جو امید کا ننھا سا پودا لگایا تھا تیری بے رخی کی سرد ہوا نے اسے جلا ڈالا
ہم تو اپنے دل کی آواز پہ چلتے ہیں سدا عقل کے مفاد پرست فیصلوں سے دور رہتے ہیں
ہم تو اپنے دل کی آواز پہ چلتے ہیں سدا عقل کے مفاد پرست فیصلوں سے دور رہتے ہیں
دل کی ویرانی کو جب بھی سکون ملا ہے تیرے در کی چوکھٹ پہ سر جھکا کر ملا ہے
دل کی ویرانی کو جب بھی سکون ملا ہے تیرے در کی چوکھٹ پہ سر جھکا کر ملا ہے
کاش کہ کوئی اس دل کی خاموشی کو بھی سمجھ پاتا جو ہر دکھ کو ہنس کے اپنے اندر چھپا لیتا ہے
کاش کہ کوئی اس دل کی خاموشی کو بھی سمجھ پاتا جو ہر دکھ کو ہنس کے اپنے اندر چھپا لیتا ہے
دل سلامت رہے تو ہر خوشی دوبارہ مل جائے گی یہ وہ خزانہ ہے جو دنیا کی ہر دولت سے بڑا ہے
دل سلامت رہے تو ہر خوشی دوبارہ مل جائے گی یہ وہ خزانہ ہے جو دنیا کی ہر دولت سے بڑا ہے
Text copied to clipboard!