Gham Urdu Shayari: غمِ روزگار، دل کی اداسی اور دکھ پر 20 پرتاثیر اشعار

Gham Urdu Shayari: غمِ روزگار، دل کی اداسی اور دکھ پر 20 پرتاثیر اشعار
غم اور حزن انسانی زندگی کے ایسے ناقابلِ فراموش پہلو ہیں جو انسان کو وقت سے پہلے بالغ اور سنجیدہ بنا دیتے ہیں۔ جب تقدیر کے فیصلے خوابوں کو چکنا چور کر دیں اور اپنوں کے رویے دل کو داغدار کر جائیں، تو سینے میں ایک خاموش گھٹن جنم لیتی ہے۔ غم کی کیفیت میں الفاظ انسان کا سب سے بڑا سہارا اور مداوا بن جاتے ہیں۔ 'غم اردو شاعری' کا یہ باب ان تمام اداس دلوں کے نام ہے جو گردشِ ایام اور غمِ روزگار کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ان اشعار میں غم کی تاریکیوں کو ادبی وقار کے ساتھ سجایا گیا ہے تاکہ آپ کی اداسی کو ایک پرسکون اور ہمدرد آواز مل سکے۔ غم کا ہر لمحہ انسان کو اپنے اندر جھانکنے اور زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔ امید ہے کہ یہ اشعار آپ کے دل کی اداسی کے بوجھ کو ہلکا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
غمِ حیات نے بخشا ہے ایسا صدمہ ہمیں کہ اب مسرتوں کی طلب بھی گناہ لگتی ہے
غمِ حیات نے بخشا ہے ایسا صدمہ ہمیں کہ اب مسرتوں کی طلب بھی گناہ لگتی ہے
ہماری خاموشی میں جو رنج دفن ہے جاناں اگر بیاں کریں تو زمانہ ملال میں پڑ جائے
ہماری خاموشی میں جو رنج دفن ہے جاناں اگر بیاں کریں تو زمانہ ملال میں پڑ جائے
غم کے ماروں کو خوشی راس نہیں آتی کبھی یہ وہ دیوانے ہیں جو ہنس کے بھی رو پڑتے ہیں
غم کے ماروں کو خوشی راس نہیں آتی کبھی یہ وہ دیوانے ہیں جو ہنس کے بھی رو پڑتے ہیں
ہر گھڑی ایک نیا زخم کھلتا ہے دل میں ہم نے غم کو ہی اپنا نصیب بنا رکھا ہے
ہر گھڑی ایک نیا زخم کھلتا ہے دل میں ہم نے غم کو ہی اپنا نصیب بنا رکھا ہے
وہ جو مسکراتے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں محفل میں رات کو ان کے تکیے آنسوؤں سے بھیگے ہوتے ہیں
وہ جو مسکراتے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں محفل میں رات کو ان کے تکیے آنسوؤں سے بھیگے ہوتے ہیں
ہم نے اپنے ہی دل کا ماتم منایا ہے سدا زمانے کے آگے کبھی دامن نہیں پھیلایا ہم نے
ہم نے اپنے ہی دل کا ماتم منایا ہے سدا زمانے کے آگے کبھی دامن نہیں پھیلایا ہم نے
غم کی اس تپتی ہوئی دھوپ میں کوئی سایہ نہیں ہر کسی نے اپنا مطلب نکالا اور چھوڑ دیا
غم کی اس تپتی ہوئی دھوپ میں کوئی سایہ نہیں ہر کسی نے اپنا مطلب نکالا اور چھوڑ دیا
حسرتوں کے جنازے روز اٹھتے ہیں اس دل سے ہم وہ بدنصیب ہیں جو اپنی ہی قبر پہ روتے ہیں
حسرتوں کے جنازے روز اٹھتے ہیں اس دل سے ہم وہ بدنصیب ہیں جو اپنی ہی قبر پہ روتے ہیں
تیرگی اتنی بڑھی ہے دل کے ویرانے میں کہ اب چراغِ امید بھی دھواں دینے لگا ہے
تیرگی اتنی بڑھی ہے دل کے ویرانے میں کہ اب چراغِ امید بھی دھواں دینے لگا ہے
غمِ روزگار نے چھین لیں ساری رونقیں ہماری ورنہ ہم بھی کبھی اس شہر کی جان ہوا کرتے تھے
غمِ روزگار نے چھین لیں ساری رونقیں ہماری ورنہ ہم بھی کبھی اس شہر کی جان ہوا کرتے تھے
پلکوں پہ جو اشک ٹھہر جاتے ہیں اداسی کے وہ دل کے گہرے سمندر کی عکاسی کرتے ہیں
پلکوں پہ جو اشک ٹھہر جاتے ہیں اداسی کے وہ دل کے گہرے سمندر کی عکاسی کرتے ہیں
ہم نے تقدیر کے ہر ستم کو خاموشی سے سہا مگر اس دل کی تڑپ کا کوئی کنارہ نہ ملا
ہم نے تقدیر کے ہر ستم کو خاموشی سے سہا مگر اس دل کی تڑپ کا کوئی کنارہ نہ ملا
اداس شاموں کی یہ ہوا جب چھو کر گزرتی ہے پرانے زخموں میں پھر اک چبھن سی ہوتی ہے
اداس شاموں کی یہ ہوا جب چھو کر گزرتی ہے پرانے زخموں میں پھر اک چبھن سی ہوتی ہے
غم سے رشتہ ہمارا بہت پرانا ہے میاں یہ وہ مہمان ہے جو کبھی رخصت نہیں ہوتا
غم سے رشتہ ہمارا بہت پرانا ہے میاں یہ وہ مہمان ہے جو کبھی رخصت نہیں ہوتا
زندہ ہیں بس سانسوں کے چلنے کی مجبوری سے ورنہ جینے کی تمنا تو کب کی مر چکی ہے
زندہ ہیں بس سانسوں کے چلنے کی مجبوری سے ورنہ جینے کی تمنا تو کب کی مر چکی ہے
کس سے کہیں کہ دل پہ کیا گزری ہے آج یہاں ہر شخص اپنی ہی پریشانی میں گرفتار ہے
کس سے کہیں کہ دل پہ کیا گزری ہے آج یہاں ہر شخص اپنی ہی پریشانی میں گرفتار ہے
غم کے صحرا میں ہم نے تنہا سفر کیا ہے ہر موڑ پہ بس اداسی کا ہی سامنا ہوا ہے
غم کے صحرا میں ہم نے تنہا سفر کیا ہے ہر موڑ پہ بس اداسی کا ہی سامنا ہوا ہے
مسکرانے کی کوشش تو بہت کرتے ہیں ہم مگر آنکھوں کی نمی سارے بھید کھول دیتی ہے
مسکرانے کی کوشش تو بہت کرتے ہیں ہم مگر آنکھوں کی نمی سارے بھید کھول دیتی ہے
یہ جو اداسی کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں ہم یہ زمانے کی بے رخی کا دیا ہوا تحفہ ہے
یہ جو اداسی کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں ہم یہ زمانے کی بے رخی کا دیا ہوا تحفہ ہے
خدا کرے کہ کسی کو ایسا غم نہ ملے جس کے بعد جینے کی کوئی امید باقی نہ رہے
خدا کرے کہ کسی کو ایسا غم نہ ملے جس کے بعد جینے کی کوئی امید باقی نہ رہے
Text copied to clipboard!