Ishq Urdu Shayari: عشقِ حقیقی و مجازی، جنون اور خود سپردگی پر 20 شاہکار اشعار
عشق اردو شاعری کی جان، روح اور اس کا سب سے بلند مرتبہ موضوع ہے۔ عشق عقل کی حدود سے ماورا ایک ایسا دیوانہ پن ہے جس میں عاشق اپنے محبوب کی ذات میں مکمل طور پر فنا ہو جاتا ہے۔ چاہے وہ عشقِ مجازی ہو یا عشقِ حقیقی—اس راستے میں قربانی، صبر، وارفتگی اور تسلیم و رضا کی وہ منزلیں آتی ہیں جہاں انسان کا وجود ایک روشن چراغ بن جاتا ہے۔
'عشق اردو شاعری' کا یہ شاہکار باب ان تمام صوفیانہ اور قلندرانہ جذبوں کا عکاس ہے جو دل کو دنیاوی مصلحتوں سے آزاد کر دیتے ہیں۔ یہ اشعار آپ کے دل میں عشق کی تڑپ اور روحانی وسعت پیدا کریں گے۔
عشق وہ واحد طاقت ہے جو انسان کو خود غرضی سے پاک کر کے لازوال بنا دیتی ہے۔ ان اشعار کے ذریعے عشق کے پاکیزہ جنون کو محسوس کریں۔
عشق وہ آگ ہے غالب لگائے نہ لگے
اور بجھائے نہ بنے جب یہ بھڑک اٹھتی ہے
عشق وہ آگ ہے غالب لگائے نہ لگے
اور بجھائے نہ بنے جب یہ بھڑک اٹھتی ہے
ہم نے عشق میں اپنا سب کچھ داؤ پہ لگا دیا
نہ جیت کی خوشی رہی نہ ہار کا ملال رہا
ہم نے عشق میں اپنا سب کچھ داؤ پہ لگا دیا
نہ جیت کی خوشی رہی نہ ہار کا ملال رہا
عقل والوں کے مقدر میں کہاں یہ لذتِ درد
یہ تو بس عشق کے دیوانوں کا خاص حصہ ہے
عقل والوں کے مقدر میں کہاں یہ لذتِ درد
یہ تو بس عشق کے دیوانوں کا خاص حصہ ہے
تیرے عشق نے ہمیں اس مقام پہ لا کھڑا کیا
جہاں اب اپنی بھی خبر نہیں رہتی ہمیں
تیرے عشق نے ہمیں اس مقام پہ لا کھڑا کیا
جہاں اب اپنی بھی خبر نہیں رہتی ہمیں
عشق جب اپنے عروج پہ پہنچتا ہے تو فنا ہو جاتا ہے
قطرہ جب سمندر میں گرے تو خود سمندر بن جاتا ہے
عشق جب اپنے عروج پہ پہنچتا ہے تو فنا ہو جاتا ہے
قطرہ جب سمندر میں گرے تو خود سمندر بن جاتا ہے
ہم نے تو سجدوں میں بھی تیری ہی دعا مانگی ہے
ہمارا عشق کوئی رسمی تماشہ نہیں ہے
ہم نے تو سجدوں میں بھی تیری ہی دعا مانگی ہے
ہمارا عشق کوئی رسمی تماشہ نہیں ہے
عشق کے راستے میں جو سر کٹا دیتے ہیں باوقار
وہی تاریخ کے اوراق پہ سدا زندہ رہتے ہیں
عشق کے راستے میں جو سر کٹا دیتے ہیں باوقار
وہی تاریخ کے اوراق پہ سدا زندہ رہتے ہیں
تیرے دید کی پیاس اب اس قدر بڑھ چکی ہے
کہ اب نیند میں بھی تیرا ہی جلوہ نظر آتا ہے
تیرے دید کی پیاس اب اس قدر بڑھ چکی ہے
کہ اب نیند میں بھی تیرا ہی جلوہ نظر آتا ہے
ہم تو عشق کے اس دریا میں کود پڑے ہیں بے خوف
کنارے کی طلب کمزور دل والوں کو ہوتی ہے
ہم تو عشق کے اس دریا میں کود پڑے ہیں بے خوف
کنارے کی طلب کمزور دل والوں کو ہوتی ہے
عشق نے سکھایا ہے ہمیں خود کو مٹانے کا ہنر
انا کے بت کو توڑ کے سچی الفت پانے کا ہنر
عشق نے سکھایا ہے ہمیں خود کو مٹانے کا ہنر
انا کے بت کو توڑ کے سچی الفت پانے کا ہنر
تیرے بغیر یہ کائنات اک ویرانہ لگتی ہے
تیرے دم سے ہی تو اس عشق میں رونق ہے
تیرے بغیر یہ کائنات اک ویرانہ لگتی ہے
تیرے دم سے ہی تو اس عشق میں رونق ہے
ہم وہ پروانے ہیں جو شمع پہ جان وار دیتے ہیں
ہمیں راکھ ہونے کا ذرا سا بھی خوف نہیں ہوتا
ہم وہ پروانے ہیں جو شمع پہ جان وار دیتے ہیں
ہمیں راکھ ہونے کا ذرا سا بھی خوف نہیں ہوتا
عشق کی کوئی ذات، کوئی مذہب، کوئی سرحد نہیں ہوتی
یہ تو دلوں کا دلوں سے اک الہی رشتہ ہوتا ہے
عشق کی کوئی ذات، کوئی مذہب، کوئی سرحد نہیں ہوتی
یہ تو دلوں کا دلوں سے اک الہی رشتہ ہوتا ہے
تیری اک نگاہِ کرم نے ہمیں خرید لیا ہے
ہم تو تیرے عشق کے دربار کے ادنی غلام ہیں
تیری اک نگاہِ کرم نے ہمیں خرید لیا ہے
ہم تو تیرے عشق کے دربار کے ادنی غلام ہیں
جنونِ عشق جب سر چڑھ کے بولتا ہے تو طوفان تھم جاتے ہیں
اور دنیا کے سارے جھوٹے اصول بکھر جاتے ہیں
جنونِ عشق جب سر چڑھ کے بولتا ہے تو طوفان تھم جاتے ہیں
اور دنیا کے سارے جھوٹے اصول بکھر جاتے ہیں
ہم نے عشق کی کتاب کو آنسوؤں سے لکھا ہے
اس کے ہر صفحے پہ تیری وفا کا نقش کندہ ہے
ہم نے عشق کی کتاب کو آنسوؤں سے لکھا ہے
اس کے ہر صفحے پہ تیری وفا کا نقش کندہ ہے
عشق وہ عبادت ہے جو کبھی قضا نہیں ہوتی
یہ وہ سجدہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا
عشق وہ عبادت ہے جو کبھی قضا نہیں ہوتی
یہ وہ سجدہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا
تیرے عشق کا رنگ کچھ ایسا چڑھا ہے مجھ پر
کہ اب کوئی دوسرا رنگ مجھ پہ اثر نہیں کرتا
تیرے عشق کا رنگ کچھ ایسا چڑھا ہے مجھ پر
کہ اب کوئی دوسرا رنگ مجھ پہ اثر نہیں کرتا
ہم نے زمانے کے ہر خوف کو ٹھکرا دیا تیرے لیے
عشق میں جو ڈر جائے وہ عاشق کہلانے کے لائق نہیں
ہم نے زمانے کے ہر خوف کو ٹھکرا دیا تیرے لیے
عشق میں جو ڈر جائے وہ عاشق کہلانے کے لائق نہیں
سدا روشن رہے یہ عشق کا چراغِ محبت
جو ہر دور میں انسان کو انسانیت کا درس دیتا رہے
سدا روشن رہے یہ عشق کا چراغِ محبت
جو ہر دور میں انسان کو انسانیت کا درس دیتا رہے